تراجم

Tarajum

ایک نئی غزل

محبت کی روش کو چھوڑنا اچھا نہیں لگتا یوں خود کو نفرتوں میں جھونکنا اچھا نہیں لگتا حقیقت کے شکستہ آئینہ کو جب سے دیکھا ہے مجھے خوابوں کی سنگت جھولنا اچھا نہیں لگتا نظر انداز جو کردے مجھے اکثر سرِ محفل تو آگے بڑھ کے اس کو روکنا اچھا نہیں لگتا کبھی جو چوٹ کھائی آج تک پچھتا رہے ہیں ہم اسے خلوت میں اپنی سوچنا اچھا نہیں لگتا دبے پاؤں جو آجائے وہ شہرت اور ہوتی ہے بہ بانگِ دہل دل کو توڑنا اچھا نہیں لگتا وہ چاہے جس قدر آزار کا باعث بنے رضیہ بھری محفل میں اس کو ٹوکنا اچھا نہیں لگتا رضیہ سبحان

نئی غزل

نئی غزل وہ جو میرا یہاں نہیں ہے جناب کیا بتاؤں کہاں نہیں ہے جناب سَر پہ ہے آسماں زمیں نیچے اور کوئی درمیان نہیں ہے جناب جس کو ہمراز تم نے سمجھا ہے وہ مِرا رازداں نہیں ہے جناب ہو وضاحت ہر ایک جملے کی یہ مِرا امتحاں نہیں ہے جناب ہے حقیقت میں حالِ دل میرا یہ کوئی داستاں نہیں ہے جناب طُول دینا نہ قصہ دل کو کہ یہاں سے وہاں نہیں ہے جناب رضیہ سبحان

نئی غزل

وہ جو میرا یہاں نہیں ہے جناب کیا بتاؤں کہاں نہیں ہے جناب سَر پہ ہے آسماں زمیں نیچے اور کوئی درمیان نہیں ہے جناب جس کو ہمراز تم نے سمجھا ہے وہ مِرا رازداں نہیں ہے جناب ہو وضاحت ہر ایک جملے کی یہ مِرا امتحاں نہیں ہے جناب ہے حقیقت میں حالِ دل میرا یہ کوئی داستاں نہیں ہے جناب طُول دینا نہ قصہ دل کو کہ یہاں سے وہاں نہیں ہے جناب دہنِ شیریں تو سر نگیں آنکھیں اور کیا کچھ یہاں نہیں ہے جناب یوں ہی پوچھا کہاں گئے تھے آپ سے بد گماں نہیں ہیں جناب اپنا ایثار رنگ لائے گا کہ یہ کارِ زیاں نہیں ہے جناب ایسی عجلت بھی کیا بچھڑنے کی ہم ابھی رفتگاں نہیں ہیں جناب رضیہ سبحان

نئی غزل

گُل کے مہکار کی آئو باتیں کریں رنگِ گلزار کی آئو باتیں کریں جس کے چہرے پہ کالا وہ تِل اِک حسیں اِس رخِ یار کی آئو باتیں کریں جسم میں روشنی جو مقید ہوئی اِس کے انوار کی آئو باتیں کریں جس نے مظلوم کا سَر جھکایا یہاں اِس کے دستار کی آئو باتیں کریں قال اور فعل جس کا نہیں ایک سا اِس کے گفتار کی آئو باتیں کریں ہے بھَرم پارسائی کا جن کو بہت اِن کے کردار کی آئو باتیں کریں تم بھی بیزار ہو ہم بھی ناخوش بہت ہم سے دوچار کی آئو باتیں کریں زندگی ہے کٹھن موت آساں نہیں جسمِ بیمار کی آئو باتیں کریں جس کا شاہکار تخلیق انسان ہے ایسے فن کار کی آئو باتیں کریں رضیہ سبحان

ماخوذ ترجمہ

“I shall be your eyes, your hand and loving.” Rumi

تجھے ڈھونڈو ں سیاہی میں، سفیدی میں اجالوں میں، اندھیروں میں دیا لیکر چلوں صحرا میں، جنگل میں مگر سب رائیگانی ہے کہ تو ملتا نہیں مجھ کو! اگر مل جائے تو اِک بار تجھ سے عرض ہو میری کہ مجھ کو اپنی آنکھیں دے میں بن جائوں تیری آنکھیں کہ پھر باقی رہے گی نہ پشیمانی نہ حیرانی نہ دل پر پریشانی رہوں سرشار ہر دم میں رہے نہ جستجو تیری جدھر دیکھوں ادھر تو ہوا رضیہ سبحان

ایک نئی غزل

محبت کی روش کو چھوڑنا اچھا نہیں لگتا یوں خود کو نفرتوں میں جھونکنا اچھا نہیں لگتا حقیقت کے شکستہ آئینہ کو جب سے دیکھا ہے مجھے خوابوں کی سنگت جھولنا اچھا نہیں لگتا نظر انداز جو کردے مجھے اکثر سرِ محفل تو آگے بڑھ کے اس کو روکنا اچھا نہیں لگتا کبھی جو چوٹ کھائی آج تک پچھتا رہے ہیں ہم اسے خلوت میں اپنی سوچنا اچھا نہیں لگتا دبے پاؤں جو آجائے وہ شہرت اور ہوتی ہے بہ بانگِ دہل دل کو توڑنا اچھا نہیں لگتا وہ چاہے جس قدر آزار کا باعث بنے رضیہ بھری محفل میں اس کو ٹوکنا اچھا نہیں لگتا رضیہ سبحان

نئی غزل

نئی غزل وہ جو میرا یہاں نہیں ہے جناب کیا بتاؤں کہاں نہیں ہے جناب سَر پہ ہے آسماں زمیں نیچے اور کوئی درمیان نہیں ہے جناب جس کو ہمراز تم نے سمجھا ہے وہ مِرا رازداں نہیں ہے جناب ہو وضاحت ہر ایک جملے کی یہ مِرا امتحاں نہیں ہے جناب ہے حقیقت میں حالِ دل میرا یہ کوئی داستاں نہیں ہے جناب طُول دینا نہ قصہ دل کو کہ یہاں سے وہاں نہیں ہے جناب رضیہ سبحان

نئی غزل

وہ جو میرا یہاں نہیں ہے جناب کیا بتاؤں کہاں نہیں ہے جناب سَر پہ ہے آسماں زمیں نیچے اور کوئی درمیان نہیں ہے جناب جس کو ہمراز تم نے سمجھا ہے وہ مِرا رازداں نہیں ہے جناب ہو وضاحت ہر ایک جملے کی یہ مِرا امتحاں نہیں ہے جناب ہے حقیقت میں حالِ دل میرا یہ کوئی داستاں نہیں ہے جناب طُول دینا نہ قصہ دل کو کہ یہاں سے وہاں نہیں ہے جناب دہنِ شیریں تو سر نگیں آنکھیں اور کیا کچھ یہاں نہیں ہے جناب یوں ہی پوچھا کہاں گئے تھے آپ سے بد گماں نہیں ہیں جناب اپنا ایثار رنگ لائے گا کہ یہ کارِ زیاں نہیں ہے جناب ایسی عجلت بھی کیا بچھڑنے کی ہم ابھی رفتگاں نہیں ہیں جناب رضیہ سبحان

نئی غزل

گُل کے مہکار کی آئو باتیں کریں رنگِ گلزار کی آئو باتیں کریں جس کے چہرے پہ کالا وہ تِل اِک حسیں اِس رخِ یار کی آئو باتیں کریں جسم میں روشنی جو مقید ہوئی اِس کے انوار کی آئو باتیں کریں جس نے مظلوم کا سَر جھکایا یہاں اِس کے دستار کی آئو باتیں کریں قال اور فعل جس کا نہیں ایک سا اِس کے گفتار کی آئو باتیں کریں ہے بھَرم پارسائی کا جن کو بہت اِن کے کردار کی آئو باتیں کریں تم بھی بیزار ہو ہم بھی ناخوش بہت ہم سے دوچار کی آئو باتیں کریں زندگی ہے کٹھن موت آساں نہیں جسمِ بیمار کی آئو باتیں کریں جس کا شاہکار تخلیق انسان ہے ایسے فن کار کی آئو باتیں کریں رضیہ سبحان

ماخوذ ترجمہ

“I shall be your eyes, your hand and loving.” Rumi

تجھے ڈھونڈو ں سیاہی میں، سفیدی میں اجالوں میں، اندھیروں میں دیا لیکر چلوں صحرا میں، جنگل میں مگر سب رائیگانی ہے کہ تو ملتا نہیں مجھ کو! اگر مل جائے تو اِک بار تجھ سے عرض ہو میری کہ مجھ کو اپنی آنکھیں دے میں بن جائوں تیری آنکھیں کہ پھر باقی رہے گی نہ پشیمانی نہ حیرانی نہ دل پر پریشانی رہوں سرشار ہر دم میں رہے نہ جستجو تیری جدھر دیکھوں ادھر تو ہوا رضیہ سبحان

Scroll to Top