Poem ” Ode to the West Wind” by R. B. Shelley منظوم ترجمہ “بے لگام ہوا”

Poem ” Ode to the West Wind” by R. B. Shelley
منظوم ترجمہ “بے لگام ہوا”

خِزاں کے وسط سے مغرب سے آنے والی ہوا
اڑا کے لائ ہے بے رنگ خشک پتوں کو
جو دور دور تلک یوں بھٹکتے پھرتے ہیں
کہ جیسے اُن کے تعاقب میں کوئ سایہ ہو!!
شریر و شوخ ہوا نے زمیں کو بہکایا
کو پودے بیج میں سوئے تھے چونک کر اٹھے
زمیں کی کوکھ سے نکلے ہوا میں لہرائے
حیات و موت کا پیغام لیکر آئ ہوا
جنوں کے رنگ میں ڈوبی ہوئ ہوائوں نے
سکوتِ بحر کو ایسے جھنجھوڑ ڈالا ہے
کہ ڈوبتی ہوئ موجوں میں آئ طغیانی
سمندروں میں عجب اضطراب لائ ہوا
فلک پہ بھی یہ گھٹائوں کو چھیڑ تی گزری
شریر ایسی کہ جا جا کے اِن سے ٹکرائ
زمین پہ پھر تو مسلسل پھوار گرنے لگی
خزاں کے ساتھ پیامِ بہار لائ ہوا
اے بے زبان ہوا تو زمیں پہ حاوی ہے
ترا اثر ہے سمندر میں آسمانوں میں
ترے وجود کو محسوس کرسکی ہوں مگر
ترا وجود مرا کچھ نہیں بگاڑ سکا!
اے تندوتیز ہوا کاش ایسا ممکن ہو
کہ تیری برق سی رفتار مجھ کو لے جائے
اُڑا کے دور کہیں دور اِس جہاں سے دور
کہ جیسے میرے تعاقب میں کوئی سایہ ہو!!
اے کاش تیری یہ رفتار مجھ کو چونکادے
سکوتِ شام سے سوئے سمندروں کی طرح
اے کاش تیری یہ رفتار میرے لفظوں کو
بکھیر ڈالے زمیں پر نئے گُلوں کی طرح
اے کاش تیرا اثر مجھ پہ اِس طرح سے ہو
کہ میری روح میری کائنات مِل جائے
ترے حصار میں بس قید ہوکے رہ جائوں
ترے وجود کو مجھ سے حیات مل جائے
اے بے لگام ہوا، اِک ذرا مجھے چھولے
رضیہ سبحان

5-5-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top