Dover Beach by Mathew Arnold “سمندر”منظوم ترجمہ

منظوم ترجمہ:”سرد آگ” سے انتخاب
Dover Beach
by
Mathew Arnold
“سمندر”
شام کے ڈوبنے کا منظر ہم
لبِ ساحل پر ٹھیر کر دیکھیں
سرمئ سرمئ سمندر میں
چاند کا عکس کتنا پیارا ہے
یہ سمندر جو شور کرتا ہے
جیسے ہم پہ ہی زور کرتا ہے
اس کی موجیں سر پٹختی ہیں
کوئی شکوہ ضرور کرتی ہیں!
اِن ہی موجوں کے اضطراب میں ہے
آدمی کا بھی اضطراب نہاں
آدمی بھی تو سر پٹختا ہے
آدمی بھی تو یوں تڑپتا ہے
جیسے بے چین موج ساحل پر!!
یہ سمندر حصارِ دنیا تھا
آج بے بس ہے، بے سہارا ہے
یہ سمندر کہ جس کی بستی میں
عظمتوں کے سراغ ملتے تھے
یہ سمندر کہ جس کی موجوں میں
دل دھڑکتا تھا اس کے خالق کا
آج خاموش اور ساکت ہے!
یہ سمندر ہے آج بھی ویسا
پَر نہیں اس میں زور پہلا سا
یہ کبھی آگہی کا دریا تھا
یہ کبھی روشنی کا دھارا تھا!
اس کی موجیں صبا کی موجیں تھیں
اس کا ساحل وفا کا ساحل تھا
تھام کر ہاتھ اس کی موجوں کا
پار کرتے تھے آگ کا دریا!

ترجمہ :پروفیسر رضیہ سبحان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top