Ghazal

غزل ” جو ہم سے اس قدر یوں بدگمان ہے ” ۔ 14 ستمبر 2019

غزل جو ہم سے اس قدر یوں بدگماں ہے اسی کا نام ورد۔انس و جاں ہے جو کل تک دسترس میں تھا ہماری وہ لمحہ اب خدا جانے کہاں ہے انا کہتی ہے جس کو ساری دنیا وہی کم بخت اپنے درمیاں ہے یہ قطرہ جو سر۔مژگاں رکا ہے وہی تو میرے غم کا ترجماں …

غزل ” جو ہم سے اس قدر یوں بدگمان ہے ” ۔ 14 ستمبر 2019 Read More »

غزل ” تیرگی زیست میں غضب کی ہے ” ۔ 5 ستمبر 2019

غزل تیرگی زیست میں غضب کی ہے دل نے پھر روشنی طلب کی ہے تتلیاں سی رگوں میں اُڑتی ہیں اب محبت بھی اور ڈھب کی ہے کچھ منانے میں ہم کو عُذر نہیں برہمی اِن کی بے سبب کی ہے بعد دستک کے سر جھکا لیجئے بات پردے میں اِن کی چَھب کی ہے …

غزل ” تیرگی زیست میں غضب کی ہے ” ۔ 5 ستمبر 2019 Read More »

غزل ” غم کے انگاروں کو اک شہرِ نگاراں سمجھا” ۔ 4ستمبر 2019

غزل غم کے انگاروں کو اک شہر۔ نگاراں سمجھا زندگی تجھ کو بہت ہم نے تو آساں سمجھا درد۔دل کو ہی متاع۔دل و جا ں جان لیا مال و دولت کو کہاں زیست کا ساماں سمجھا دل میں پلتی رہی ہر دم ہی تمنائے ثمر ہم نے ویرانئ۔جاں کو بھی نہ ویراں سمجھا کب یہاں …

غزل ” غم کے انگاروں کو اک شہرِ نگاراں سمجھا” ۔ 4ستمبر 2019 Read More »

سلام ” میری بلا سے رہیں خاکِ دشماں حسین رضی اللہ” ۔ 3 ستمبر 2019

سلام مری بلا سے رہیں خاک دشمنانِ حُسین رہے گا ہم پہ سدا ہونہی سائبانِ حُسین یہ آسماں جو سرِ شام سرخ ہوتا ہے لکھی ہے خون سے قدرت نے داستانِ حُسین نہ مال و زر کی تمنا نہ حرص۔جاہ و حشم ہمارے بخت میں لکھ دے تو آستانِ حُسین جگر فگار کبھی ہے الم …

سلام ” میری بلا سے رہیں خاکِ دشماں حسین رضی اللہ” ۔ 3 ستمبر 2019 Read More »

غزل ” خود کو ہم اس کے ہوبہو کرلیں ” 27 اگست 2019

غزل خود کو ہم اس کے ہو بہو کرلیں اور اس میں کو اپنی تو کرلیں اس کو الزام سے بری کر کے خود کو ہم خود کے روبرو کرلیں بھیڑ میں گم جو ہوگیا اس کی اپنے اندر ہی جستجو کرلیں آج پانی بھی دستیاب نہیں کیوں نہ اشکوں سے ہی وضو کرلیں جسم …

غزل ” خود کو ہم اس کے ہوبہو کرلیں ” 27 اگست 2019 Read More »

غزل ” وصل کی شب تھی ” 16اگست 2019

تازہ غزل وصل کی شب تھی، عجب ایک نظارہ دیکھا میں نے جب چاند کے پہلو میں ستارا دیکھا تم نے دیکھا ہے، نہیں ،تم نے کہاں دیکھا ہے میں نے جو ڈوبنے والے کا اشارا دیکھا پھر محبت کے امر ہونے کا ایقان ہوا جب کبھی راکھ ہٹائی تو شرارا دیکھا ایک سا کب …

غزل ” وصل کی شب تھی ” 16اگست 2019 Read More »

غزل “وطن کو لالہ ءِ گل سے سجائیں گے ہم لوگ ” 13 اگست 2019

وطن کو لالہ ءِ گُل سے سجائیں گے ہم لوگ ہے جشن آج تو ایسے منائیں گے ہم لوگ مقامِ دار سے ہٹ کر طرب کی بزم میں سجے جگر کے زخم مٹا کر ہر اِک دل سے ملیں تنک مزاج زمانے کو خوش کلامی سے نظر نواز کریں اور وفا کے جام بھریں یوں …

غزل “وطن کو لالہ ءِ گل سے سجائیں گے ہم لوگ ” 13 اگست 2019 Read More »

Scroll to Top