admin

غزل ۔ جو دل پہ بوجھ دھرا تھا

جو دل پہ بوجھ دھرا تھا اتارتی کیسے میں اتنے شور میں اس کو پکارتی کیسے مری طلب میں جو محروم ہو گئے مجھ سے میں ان کو اپنی نظر سے اتارتی کیسے گزرتے وقت نے آلودہ کر دیا جس کو اس آئینے میں سراپا سنوارتی کیسے پھنسا ہوا ہے جو اس زندگی کے دلدل …

غزل ۔ جو دل پہ بوجھ دھرا تھا Read More »

نظم آرزو

ہمیں تو وقت کا ماتم کبھی کرنا نہیں آیا کبھی ویرانی ءِ دل پر ہمیں کڑھنا نہیں آیا نہیں آیا کبھی رونا ،کبھی آہ و فغاں کرنا کتابِ زیست سے چن چن کے ہر غم کو بیاں کرنا جگر میں تاب لاتے ،مسکراتے اور گزر جاتے کوئی موسم کھڑا ہو آندھیوں کا فقرو فاقے کا …

نظم آرزو Read More »

ترجمہ ” سورۃ انفطار”

ترجمہ سوُرَۃُ الاِنفِطَار __ وَاِذَاَلشَّمسُ کُوِِّ رَت تمھیں کیا علم جو انکار کرتے ہو قیامت سے تمھیں کیا علم، اِس دن آسمان پھٹ جائے گا گر جائیں گے تارے پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ یں گے ابلیں گے سمندر بھی ارے انسان کس دھوکہ میں آئے ہو کہ تم نہ جان پائے اپنے آقائے حقیقی کو! …

ترجمہ ” سورۃ انفطار” Read More »

غزل “زندگی صورت اک راز اگر تم سمجھو”۔ 28ستمبر 2019

تازہ کلام زندگی صورت۔اک راز اگر تم سمجھو ہر سحر شام کا آغاز ا گر تم سمجھو دل کی باتیں رہیں پھولوں سے کبھی تاروں سے جیسے قدرت مری ہمراز ا گر تم سمجھو کبھی مدھم تو کبھی تیز ہو دل کی دھڑکن جیسے سینے میں کوئ ساز اگر تم سمجھو میں نے دیکھے ہیں …

غزل “زندگی صورت اک راز اگر تم سمجھو”۔ 28ستمبر 2019 Read More »

غزل ” جو ہم سے اس قدر یوں بدگمان ہے ” ۔ 14 ستمبر 2019

غزل جو ہم سے اس قدر یوں بدگماں ہے اسی کا نام ورد۔انس و جاں ہے جو کل تک دسترس میں تھا ہماری وہ لمحہ اب خدا جانے کہاں ہے انا کہتی ہے جس کو ساری دنیا وہی کم بخت اپنے درمیاں ہے یہ قطرہ جو سر۔مژگاں رکا ہے وہی تو میرے غم کا ترجماں …

غزل ” جو ہم سے اس قدر یوں بدگمان ہے ” ۔ 14 ستمبر 2019 Read More »

نظم ” درگزر” ۔ 14ستمبر 2019

نظم “درگزر” میرا دل ہر رات مجھ سے یہی کہتا ہے ہر درد کو جانے دو ہر تکلیف کو بھول جائو خالص رہو جیسے تم ہمیشہ سے تھیں معاف کردو اِنہیں بھی اور خود کو بھی آزاد کردو اِنہیں بھی اور خود کو بھی چونکہ آنے والا کل نیا سورج لیکر طلوع ہوگا تو اِس …

نظم ” درگزر” ۔ 14ستمبر 2019 Read More »

Scroll to Top