زندگی! گفتگو نمبر5۔۔۔12مئی 19

زندگی ___ گفتگو نمبر : 5
دوستو آج ماں کا عالمی دن منایا جارہا ہے. ہر طرف ماں کی ہی باتیں ہورہی ہیں، ہر کوئ اپنے مزاج کے مطابق اپنے احساسات کا ذکر کررہا ہے تو سوچا کہ اس دن کی مناسبت سے ماں کی یاد کچھ اس طرح ہی کرلی جائے! مگر
ازل سے جس کا جہاں میں وجود ہے رضیہ
منائوں کس طرح بس ایک دن میں اس ماں کا
ماں! آج تمھیں مجھ سے بچھڑے کئ برس بیت چکے ہیں مجھے یاد ہے وہ وقت جب میں تمھاری بانہوں میں، پناہوں میں زندہ تھی. بغیر سوچے سمجھے زندگی کے فیصلے کر دیا کرتی تھی. انجام سے بے خبر ہر خطرے میں کود جایا کرتی تھی. جب مجھے پرواہ بھی نہیں ہوتی تھی کہ کون کیا سوچے گا __ کس کی رائے میرے بارے میں کیا ہوگی __ میں منچلی جب جی چاہارو تی، ہنستی، چلاتی، کوئ پابندی نہیں تھی. جس کو جی چاہا، جب جی چاہا، جہاں جی چاہا کہہ دیا __ میں ایک جھرنے کی طرح ہر اونچ نیچ سے بہتی رہی. آبشار کی طرح مدھر سُروں میں گونجتی ہی رہی. باغ میں اَدھ کھِلی کلیوں کی طرح مسکراتی رہی. گھنے درختوں پر بیٹھے طائروں کی طرح نغمہ سرا رہی. سُبک خرام ہوائوں کی طرح مست و بے خود رہی. کیونکہ ماں تم جو میرے ساتھ تھیں.
مجھے اونچائی سے کودنے میں مزہ آتا تھا ایسے میں جب تم اپنے نازک سے ہاتھ اوپر کئے، آنکھوں میں انجانا خوف لئے، لبوں پر دُعا کا وِرد کرتے ہوئے مجھے تھامنے آگے بڑھتی تھیں. میں خوب ہنستی __ خوب مزے لیتی کیونکہ مجھے اپنے نا گرنے کا یقین تھا__ مگر…..
اچانک ہی سب کچھ تو بدل گیا. تمھارے تحفظ کا حصار ٹوٹ گیا ماں! تم بتائے بغیر مجھ سے روٹھ گئیں __ ماں! میں کچھ دن تم سے ناراض رہی __ پھر ایک دن
میں ماں بن گئ اور یوں لگا جیسے تم مجھ میں زندہ ہوگئیں __ وہی بے لوث پیار، قربانی، ایثار سب کچھ مجھے مل گیا.
اور آج اِس زمین پر میں تمھاری سفیر بن کر زندہ ہوں.
ماں __ کیونکہ ماں کبھی مرتی نہیں.
کیا سمجھے!!!

از رضیہ سبحان
12-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top