عجب ملالِ خاص ہے ۔ (21-5-4)

عجب ملالِ خاص ہے
یہ دل بہت اداس ہے
نہ کہہ زباں سے کچھ ابھی
کہ خامشی ہی راس ہے
یہ دل بہت اداس ہے
جو جی گئے کمال ہے
کہ سانس بھی محال ہے
یہ دور کیسا دور ہے
ابھی بھی زیرِ غور ہے
یہ دل بہت اداس ہے
کہ خامشی ہی راس ہے
ہے جاں بلب یہ زندگی
غموں میں چھپ گئی خوشی
بچھڑ گئے جدا ہوئے
جو اپنے تھے خفا ہوئے
یہ دل بہت اداس ہے
کہ خامشی ہی راس ہے
یہ رہ گزر غبار ہے
کہ دل بھی تار تار ہے
امیدِ نخل اب کہاں
ہے چار سُو یہاں خزاں
یہ دل بہت اداس ہے
کہ خامشی ہی راس ہے
یہ جسم و جاں کی شاخ پر
بنا لیا اَجل نے گھر
وبا کی جب بھی بات ہو
یہ دل کہے نجات ہو
چلے یہ پھر سے کارواں
ہو زندگی رواں دواں
یہ دل بہت اداس ہے
کہ خامشی ہی راس ہے
رضیہ سبحان

4-5-21

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top