نظم “خوف” ۔۔۔7جولائی 2019

نظم : خوف

قدم جمائے ہوئے ریت پر رکوں کب تک
سفید ریت جو ان پانیوں سے ملتی ہے
ہیں جو میری حد۔نگاہ سے آگے
کہ جن کا کوئی نہ ساحل نہ ہے کنار کوئی
میں دیکھ دیکھ یہ منظر کو کھو سی جاتی ہوں
یہ سوچتی ہوں کہ اس ریت پر جمی ہی رہوں
جو پانیوں میں رکھا پاوں
ڈوب جاونگی
اسے اک عمر تلک پار کر نہ پاوں گی
بس ایک خوف ہے انجا نا خوف
جانے کیوں
اٹھے جو پاوں تو گر کر سنبھل نہ پاوں گی
مگر
یہ ریت کہ جس پر جمے ہوئے ہیں قدم
سرک گئی میرے قدموں تلے سے
کیا ہوگا ۔۔۔۔

رضیہ سبحان
7-7-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top