نظم آرزو

ہمیں تو وقت کا ماتم کبھی کرنا نہیں آیا
کبھی ویرانی ءِ دل پر ہمیں کڑھنا نہیں آیا
نہیں آیا کبھی رونا ،کبھی آہ و فغاں کرنا
کتابِ زیست سے چن چن کے ہر غم کو بیاں کرنا
جگر میں تاب لاتے ،مسکراتے اور گزر جاتے
کوئی موسم کھڑا ہو آندھیوں کا
فقرو فاقے کا
کبھی ہم زہر پیتے اور کبھی ہم طعن سنتے تھے
کہیں پر خیرو شر سے بھی الجھ جاتے
کبھی ہم جھوٹ و سچ سے دست و پا ہوتے
کبھی یہ آگ برساتا ہوا سورج جھلس جاتا
جھلس جاتے
کبھی سیلاب اپنے خواب سارے
ساتھ لے جاتا تو بہہ جاتے
قدم نان۔جویں کی جستجو میں کھردرا ہوتے
مگر ہم ہر نشیب۔راہ کو سر کرکے دم لیتے
دریدہ چاک ہو کر بھی
بہت چپ چاپ سے رہتے
زباں سے کچھ نہیں کہتے
کہ جیسے صبر کا پودا
ہمارے دم سے ہی سر سبز رہتا ہو
مگر پھر سوچتے رہتے ہیں یہ اکثر
یہ کیا ہے ،کیوں ہے، اور یہ کس طرح سے ہے
یہ بے اک بے حسی یا حوصلہ یا بے نیازی ہے
کہ دل خاموش رہتا ہے
زباں کچھ بھی نہیں کہتی
ذہن بھی منجمد سا ہے
کسی سے کوئی شکوہ یا شکایت نہ غرض باقی
کوئی امید بھی اب یہ نہیں دنیا سنور جائے
سحر انگڑائی لے کر جاگ جائے
رات چھٹ جائے
اگر کچھ دل کو چاہت ہے
تو بس ہے آرزو اتنی
کہ جو کچھ بھی ہماری زندگی
اب رہ گئی باقی
بہت ہی خامشی سے اور سکوں سے بے نیازی سے
گزرتی شام کی مانند ڈھل جائے
کہ جیسے جھیل دریا سے
سمندر میں اتر جائے !
رضیہ سبحان
25 جون 2021

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Scroll to Top