غزل ۔ جو دل پہ بوجھ دھرا تھا

جو دل پہ بوجھ دھرا تھا اتارتی کیسے
میں اتنے شور میں اس کو پکارتی کیسے
مری طلب میں جو محروم ہو گئے مجھ سے
میں ان کو اپنی نظر سے اتارتی کیسے
گزرتے وقت نے آلودہ کر دیا جس کو
اس آئینے میں سراپا سنوارتی کیسے
پھنسا ہوا ہے جو اس زندگی کے دلدل میں
میں پستیوں سے اسے پھر ابھارتی کیسے
۔
جو نفرتوں کی نمائندگی ہی کرتا رہا
اسے بھلا یہ محبت سدھارتی کیسے
تمام چالیں خود ہی چل کے جیت اپنالی
میں کھیل ہی نہیں پائی تو ہارتی کیسے
پرایا پن کبھی اس کا نہ ہو سکا اپنا
سو غیریت کی یہ گھڑیاں گزارتی کیسے
رضیہ سبحان
25 جون 21

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Scroll to Top