غزل ۔۔۔ 19-12-26

تازہ غزل
کسے بتاوں کہ دل کو ملال کتنا ہے
اور اس پہ دل کو تمھارا خیال کتنا ہے
یہ فیصلہ تو اراکین بزمِ عشق کریں
مرے جمال میں اس کا کمال کتنا ہے
یہ بات غور طلب ہے تو غور بھی کر لو
خوشی کے رنگ میں حزن وِ ملال کتنا ہے
بساطِ زیست کے مُہروں سے پوچھ کر آو
خوشی ہے کتنی یہاں پر وبال کتنا ہے
کبھی جو روند کے اس دل کو چل دیا میرے
وہ آ کے دیکھ لے دل پائمال کتنا ہے
بلا سبب ہی نہیں خواب۔عیش میں رضیہ
اذان۔صبح میں رنگِ بلال کتنا ہے
رضیہ سبحان

26-12-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top