غزل “وطن کو لالہ ءِ گل سے سجائیں گے ہم لوگ ” 13 اگست 2019

وطن کو لالہ ءِ گُل سے سجائیں گے ہم لوگ
ہے جشن آج تو ایسے منائیں گے ہم لوگ

مقامِ دار سے ہٹ کر طرب کی بزم میں سجے
جگر کے زخم مٹا کر ہر اِک دل سے ملیں

تنک مزاج زمانے کو خوش کلامی سے
نظر نواز کریں اور وفا کے جام بھریں

یوں اتحاد کی شمعیں جلائیں گے ہم لوگ
ہے جشن آج تو ایسے منائیں گے ہم لوگ

تمیز رہبرو رہزن سے ہو کے بیگانہ
بجھادیں شورشِ غم کے تمام جلتے چراغ

سرورِ عشق میں ہر گام اِس طرح ڈوبیں
رہے نہ دِل پہ کسی کے کوئی بھی ہجر کا داغ

محبتوں کے نئے گیت گائیں گے ہم لوگ
ہے جشن آج تو ایسے منائیں گے ہم لوگ

منیب شہر کے دَم ساز بن کے چلتے ہیں
خطیب شہر کی آواز بن کر چلتے ہیں

چلے چلو کہ ہو رقصاں یہ کاروانِ حیات
خوشی سے بجتا ہوا ساز بن کے چلتے ہیں

نئے چراغ دلوں میں جلا ئیں گے ہم لوگ
ہے جشن آج تو ایسے منائیں گے ہم لوگ

رضیہ سبحان
13-8-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top