غزل ” وصل کی شب تھی ” 16اگست 2019

تازہ غزل

وصل کی شب تھی، عجب ایک نظارہ دیکھا
میں نے جب چاند کے پہلو میں ستارا دیکھا
تم نے دیکھا ہے، نہیں ،تم نے کہاں دیکھا ہے
میں نے جو ڈوبنے والے کا اشارا دیکھا
پھر محبت کے امر ہونے کا ایقان ہوا
جب کبھی راکھ ہٹائی تو شرارا دیکھا
ایک سا کب یہاں رہتا ہے بدل جاتا ہے
!کیسا بدلا ہے ترے وقت کا دھارا دیکھا
پھر تو آنکھوں میں کوئی اور ہی تصویر بنی
جب تجھے ایک جھلک بزم میں یارا دیکھا
آپ ہی ضد پہ آڑے تھے ہمیں اپنانے کی
ہم نہ کہتے تھے بہت ہوگا خسارا، دیکھا ؟
بے سبب دیکھی مہربانی بھی اُن کی رضیہ
اور بے بات پہ چڑھتا ہوا پارا دیکھا

رضیہ سبحان
16-8-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top