غزل : راس چلنا دھوپ میں آیا نہ تھا۔۔۔7جولائی 2019

تازہ کلام

راس چلنا دھوپ میں آیا نہ تھا
اور صحرا میں کہیں سایہ نہ تھا
بس گئ تھی اِس میں تری ہی مہک
اس لئے بھی پھول کمھلایا نہ تھا
کس طرح جھلسادیا ہے وقت نے
دھوپ روشن تھی مِرا سایہ نہ تھا
اس لئے بھی درد کو رکھا عزیز
پاس اپنے کوئ سرمایہ نہ تھا
جس پہ چلنے کی تمنا تھی بہت
بس وہی اِک راستہ پایا نہ تھا
فکرِ دنیا فکرِ عقبیٰ فکرِ دوست
ماسوا اِن کے تو کچھ پایا نہ تھا

رضیہ سبحان
7-7-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top