غزل ” خود کو ہم اس کے ہوبہو کرلیں ” 27 اگست 2019

غزل

خود کو ہم اس کے ہو بہو کرلیں
اور اس میں کو اپنی تو کرلیں
اس کو الزام سے بری کر کے
خود کو ہم خود کے روبرو کرلیں
بھیڑ میں گم جو ہوگیا اس کی
اپنے اندر ہی جستجو کرلیں
آج پانی بھی دستیاب نہیں
کیوں نہ اشکوں سے ہی وضو کرلیں
جسم خاکی ہے زرد پیراہن
اپنے باطن میں ہاؤ ہو کرلیں
مثلِ آئینہ دل کی ہو تفسیر
زندگی عکسِ رنگ و بو کر لیں
اس قدر خامشی نہیں اچھی
آؤ موسم پہ گفتگو کر لیں

رضیہ سبحان
27-8-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top