غزل ” جو ہم سے اس قدر یوں بدگمان ہے ” ۔ 14 ستمبر 2019

غزل

جو ہم سے اس قدر یوں بدگماں ہے
اسی کا نام ورد۔انس و جاں ہے
جو کل تک دسترس میں تھا ہماری
وہ لمحہ اب خدا جانے کہاں ہے
انا کہتی ہے جس کو ساری دنیا
وہی کم بخت اپنے درمیاں ہے
یہ قطرہ جو سر۔مژگاں رکا ہے
وہی تو میرے غم کا ترجماں ہے
مجھے تعبیر میرے خواب کی تم
بتا جاو ذرا لکھی کہاں ہے
جسے سمجھے تھے حاصل زندگی کا
حقیقت میں وہی تو رائیگاں ہے
ارے ہم سے نہیں دنیا سے پوچھو
کہ کار۔زندگی کار۔زیاں ہے

رضیہ سبحان
22-9-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top