غزل ” تیرگی زیست میں غضب کی ہے ” ۔ 5 ستمبر 2019

غزل

تیرگی زیست میں غضب کی ہے
دل نے پھر روشنی طلب کی ہے
تتلیاں سی رگوں میں اُڑتی ہیں
اب محبت بھی اور ڈھب کی ہے
کچھ منانے میں ہم کو عُذر نہیں
برہمی اِن کی بے سبب کی ہے
بعد دستک کے سر جھکا لیجئے
بات پردے میں اِن کی چَھب کی ہے
بِن رُکے یہ قلم جو چلتا ہے
یہ عطا مجھ پہ میرے رب کی ہے

رضیہ سبحان
5-9-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top