غزل”گزرچکی ہے جو اک داستاں ساحل پر” ۔۔۔14-جولائی 2019

غزل۔۔۔
گزر چکی ہے جو اک داستان ساحل پر
سنا رہا ہے وہ اک نوجوان ساحل پر
ہجوم دیکھ کے ساحل پہ ایسا لگتا ہے
ہواوں کو بھی ملا ہے گیان ساحل پر
ابھرتی موجوں سے شکوہ ہوا مرا بےسود
بنا رہا ہے کوئی اب مکان ساحل پر
نہ جانے کون ہے اس پار آنے والا اب
لگا ہوا ہے فقط میرا دھیان ساحل پر
سکوت۔شام میں ڈوبا ہوا سمندر ہے
اور اس پہ جھکتا ہے یہ آسمان ساحل پر
پنپ رہی ہے سمندر میں کس قدر سازش
کہ موج موج سے ہے بدگمان ساحل پر
یوں ڈوبنا ترا گرداب میں اچانک سے
بنا ہے میرے لئے امتحان ساحل پر

رضیہ سبحان
14-7-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top