سلسلہ گفتگو3۔۔۔ 10 مئی 2019

زندگی ___ گفتگو نمبر:3
دوستو ___ یہ کیا ہم نے علم کو اداروں تک محدود کرلیا ہے جبکہ علم تو وہ سمندر ہے جس سے جو چاہے، جب چاہے، جہاں چاہے، جتنا چاہے سیراب ہوسکتا ہے. کسی کو اِس کا ایک قطرہ بھی بہت اور کوئی اِس میں ڈوب کر بھی خشک نکل آتا ہے.
سوچئے تو سہی، جب تک ہم سانس لیتے ہیں ہمارا ذہن، ہمارا دل اور ہماری روح علم کی متلاشی ہوتی ہے تو کیوں نہ ہم اپنے دل، اپنے ذہن اور اپنی روح کے فکری تقاضوں کو پورا کریں، ان کے تجسس کو برقرار رکھیں، ان کی پرورش کریں اور اس زندگی کو پر فکر اور بامقصد بنائیں.
اور اگر آپ اپنے کو، اپنے علم کو کسی ادارے تک محدود رکھیں گے تو معاف کیجئے آپ کا علم نہ صرف محدود بلکہ آپ کی تعلیم بھی نا مکمل رہے گی.
علم کا سچا ادارہ تو وہ ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں روشنی لاتا ہے. علم وہ پرندہ ہے جو آپ کی فکر کو لیکر پرواز کرتا ہے اور زمین آسمان کی سیر کرواتا ہے.
تو جناب آپ کس کے منتظر ہیں.
علم کے پَر لگائیں اور پرواز کریں. کیا سمجھے!!!
رضیہ سبحان

10-5-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top