سلسلہ گفتگو :2 9مئی 2019

زندگی ۔۔۔ گفتگو نمبر 1

دوستو کل میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ سورج ہیں!
کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کو سورج کیوں کہا.
کیا آپ نے کبھی سورج کا مشاہدہ کیا.
چلیں آج ہم مل کر غور کرتے ہیں. جب سے ہم نے دنیا میں آنکھ کھولی ہم نے یہی دیکھا کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے پھر جب ذرا سیانے ہوئے تو معلوم ہوا کہ سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں ڈوبتا ہے. اِس سے اندازہ ہوا کہ سورج سفر کرتا ہے مگر تعجب کی بات یہ لگی کہ شمال اور جنوب میں سورج کا ذکر نہیں، تو ____ یہ گتھی ہم بعد میں سلجھائیں گے.
پہلی بات تو یہ کہ جب سورج ہر روز نیا بنکر نکلتا ہے چاہے رات کتنی ہی بھیانک، اندھیری کیوں نہ ہو، جب وہ طلوع ہوتا ہے تو اِس کی باریک کرنیں آہستہ آہستہ اپنے اطراف کو اپنے رنگ میں رنگنے لگتی ہیں پھر ہمارے کمرے کی کھڑکی کے ذریعہ اِس کی کرنیں چپکے سے داخل ہوکر ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں جس کی روشنی سے کچھ ہی دیر میں ہمارا کمرہ ہی نہیں پوری دنیا روشن ہوجاتی ہے.
دوستو میں نے تو اس عمل سے یہ سیکھا کہ ہم سورج ہیں،رات کو کتنی ہی تھکن ہو کیسا ہی برا دن گزرا ہو، دوسری صبح ہمارے لئے نئ ہے، نیا سورج ہے تو ہمیں بھی نیا ہوکر بیدار ہونا ہے، ایک نئے عزم کے ساتھ جاگنا ہے. ہماری محنت بھی ایک کرن کی طرح ہے مگر جوں جوں اس میں اضافہ ہوگا یہ محنت سورج کی روشنی کی طرح ہمارے وجود کو دنیا میں منوالے گی اور ہم سورج ہی کی طرح پوری دنیا کو اُجال دیں گے. ہم اپنی انفرادی سوچ سے ہٹ کر اجتماعی فکر میں داخل ہوجائیں گے.
سوچئیے تو سہی کہ اگر ہم سورج بن جائیں تو کیا ہم تھک سکتے ہیں؟ کیا ہم مایوس ہوسکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذات کے خول میں بند رہ سکتے ہیں ____ نہیں ____ کبھی نہیں.
ارے ہاں ایک گُتھی تو سلجھانا بھول ہی گئ کہ شمال اور جنوب کا ذکر ہی نہیں ____ تو جناب جب سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں ڈوبتا ہے تو اپنی روشنی وہ چاروں طرف پھیلا چکا ہوتا ہے یعنی شمال اور جنوب میں بھی، تو ہم بھی اپنے آپ کو صرف چند لوگوں تک نہ محدود رکھیں ہماری روشنی سے دنیائے عالم کو فائدہ ہو.
کیا سمجھے!!!
رضیہ سبحان

9-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top