زندگی! گفتگو نمبر13۔۔۔20 مئی 2019

زندگی __ گفتگو نمبر :13
دوستو! ہم اپنے اطراف بہت سارے رشتوں میں جی رہے ہیں کسی کا وجود ہمارے لئے اطمینان کا محرک ہے تو کسی سے لگائو ہمیں جینے پر اکساتا ہے ،ہوسکتا ہے ایسے ہی ہمارا وجود بھی کسی کی بقاء کا ضامن ہو، لہٰذا کیوں نہ آج انہی رشتوں پر بات کرلی جائے.
انسان زندگی میں جیسے جیسے اپنے معاملات برتتا ہے، دوسروں کے ساتھ اس کا واسطہ بڑھتا ہے __ یہی واسطہ کبھی ایک خوشگوار تو کبھی تکلیف دہ تعلق کی صورت سامنے آتا ہے، جہاں ناخوشگواری ہو اور تعلق ایک بوجھ ہو تو وہاں تعلق ختم بھی کئے جاسکتے ہیں اور ختم ہوئے بھی ہیں __ البتہ جہاں واسطے خوشگوار ہیں وہ طمانیت کا مئوجب ہیں اور جو نسبت اٹل ہے وہ ہمارے لیے تازہ آکسیجن کی سی حیثیت رکھتی ہے.
اب دوسری طرف عام مشاہدہ ہے کہ یہی اصل تعلق کہیں کہیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسے رویے اختیار کر جاتے ہیں جو دل آزاری کا سبب ہے. جسے ایک وقت تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن بار بار ہر گز نہیں __ یک طرفہ طور پر نبھائے جانے کا تصور خواہ کتنا ہی آئیڈیل ہو، کتنا ہی عظیم تر ہو وہ کہیں نہ کہیں آپ سے بدلہ کی توقع رکھے گا ہوسکتا ہے کہ اس کا اظہار نہ کرے لیکن ایسا سوچنا تو فطرت ہے نا.
ساتھیوں کہنے والی بات یہی ہے کہ اگر میرے آپ کے درمیان ایسی کوئ ہستی موجود ہے تو اُس کے بڑے پن کو اس کا قصور ہرگز نہ بنائیں اس کی قدر کرتے ہوئے اسے صلہ دیجئے.
جو لوگ آپ کی فکر کرتے ہیں، خیال رکھتے ہیں __ وہ حقیقت میں آپ کے بڑے قدرداں ہیں، ان کے لیے کشادگی اختیار کیجئے.
ایسے ہی بھلے لوگوں کو جب ضرر پہنچتی ہے تو بے اختیار بے بسی سے کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ “قصور سامنے والے کا نہیں میرا ہی تھا، میں نے بلاوجہ کیوں اعلیٰ سلوک کا مظاہرہ کیا” یہ بیانیہ انتہائی مایوسی کے عالم میں دیا جاتا ہے __ تو خدارا اپنے اطراف ایسے رشتوں کی قدر کیجئے وہ آپ کے ماں، باپ، بیٹا، بہن، بھائی، بیوی، شوہر کوئ بھی ہوسکتا ہے، اپنی روش کا جائزہ لیجئے کہ کہیں ہم اپنے جوابی رویہ اس طرح ادا کررہے ہوں کہ ہمارا وہ پیارا رشتہ دیوار سے لگتا ہی چلا جائے.
اللہ پاک نے اس میل کی صورت ہم سب کو ایک خوبصورت رشتہ میں جوڑے رکھا ہے،کبھی کبھی تو کوئی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ربط قائم ہوجاتا ہے جو تسلسل مانگتا ہے یہی ارتباط تو میرا آپ سے اور آپ کا مجھ سے ہے جسے ہم بساط بھر اچھا نباہنے کی کوشش کرتے ہیں.
پھر میرے یہ اصل خالص اور بنیادی رشتے کیوں بھلا مجھ سے خائف رہیں یہی تو میرے گھر کی بنیاد ہیں.
پھر کیا سمجھے!!!

از رضیہ سبحان
20-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top