زندگی! گفتگو نمبر12۔۔۔19مئی 2019

زندگی __ گفتگو نمبر :،12
دوستو! میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں Alexander Popeکی ایک نظم “Lines from Essay on a Man”پڑھی تھی پھر وہی نظم اپنے تدریسی دور میں بچیوں کو پڑھائی۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا اس نظم میں پوشیدہ اِک اِک راز مجھ پر کھلتا گیا اورمیں اس کی وسعت اور سچائی پر حیران ہوتی گئی ــ دوستو! اس نظم کا کل ماخذ دو اہم باتیں ہیں
👆 ایک یہ کہ مالکِ کائنات نے کل مخلوقات کو علم عطا کیا جس کے تحت وہ اپنی خوراک کا حصول اور تحفظ کو یقینی بناتے ہیں اس میں حسبِ مدارج چرند پرند قدرت، فطرت کے سب جز ہی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا علم لا محدود ہے ،اس کے برعکس معاملہ انسان کے ساتھ برتا گیا اسے علم دیکر کوئ حد بندی نہ کی گئی یہی وجہ ہے کہ اس پر حیرت و انکشاف کے در مزید کھلتے چلے گئے ماضی کو کھنگالنا، مستقبل میں جھانکنا اس کےلئے کوئ رکاوٹ نہیں رکھتا اس کے باوجود اسے اگلے لمحہ سے بے خبر رکھا گیا صرف وہ اپنے لمحہ موجود سے واقف ہے اور بس __ یہی اسکی بے بسی ہے، مجبوری ہے !
جب انسان کا علم لمحہ موجود تک ہے تو وہ کیونکر زندہ رہتا ہے وہ کیا چیز ہے جسے آنے والے پل کی خبر نہیں مگر وہ آئندہ برسوں تک کی تدبیر کرتا ہے جوڑ توڑ کرتا ہے ــ وہ صرف اور صرف خدائے پاک کے دیئے ہوئے ایک عطیہ کی وجہ سے ایسا کرسکتا ہےاور وہ تحفہ ہے “امید “ــ جو سہارا ہے، توقع ہے، آس ہے،آرزو ہے، خواہش ہے اسی لئے توزبان زدِ خلائق ہے کہ امید پہ دنیا قائم ہے.
✌️ دوسری بات جس پر زور دیا گیا وہ یہ کہ آنے والی ساعت کی لاعلمی ہمارے لئے نعمت ہے زحمت نہیں __ ہم اگر اپنے کل سے آگاہ ہوجائیں تو ہمارا آج بھی نیست ہوجائے اسی لئے بے خبری غنیمت ہے ہمیں اس پر کُڑھنے کے بجائے شکر کرنا چاہئے۔
پھر دوستو ! کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انسان کو دنیا بھر کی نعمتیں دستیاب ہونے کے باوجود وہ کیوں اتنا بے چین ،ہراساں اور پریشان رہتا ہے ــ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنے حال سے پریشان ہے اور آنے والے کل پر بدحواس ہے۔نہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان کا قیام دنیا میں چند روزہ ہے اور یہ اس کی دائمی جائے پناہ نہیں، باوجود اس کے کہ پہلے وہ دنیا بھر کی آسائشیں جمع کرنے کےلئے مارا مارا پھرتا ہے، اسے حاصل کرنے کے بعد دنیا کی بے ثباتی کا خوف لاحق رہتا ہے اسکے اندر کہیں لاشعور سے آخری اور دائمی منزل کا احساس اسے بے کل کرتا ہے، انسان کو عارضی طور پر کسی محل میں بھی ٹھیرا دیا جائے اسے دنیا بھر کی آسائشیں بھی دیدی جائیں تو وہ کتنے دن وہاں خوش رہے گا وہ اپنے اصل گھر ہی جانا چاہے گا جہاں مستقل سکون اور آرام اس کا منتظر ہے ــ اسی لئے انسان دنیا میں ہمیشہ پریشان رہتا ہے کیونکہ اس کی روح اس کے جسم میں مقید ہوگئی ہے، وہ محبوس ہے، وہ نظر بند ہے، اس کا یہ مقام نہیں __ روح تو لا محدود ہے وہ کائنات کی طرح پھیلتی ہے، وہ جسم میں جب تک قید رہتی ہے بے چین رہتی ہے کیونکہ انسان تو دنیا میں دنیا سمیٹنے لگ جاتا ہے __ روح انسان کو بے چین رکھتی ہے ،آسودہ نہیں ہونے دیتی اور انسان اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر رہتا ہے کہ سب کچھ تو میرے پاس ہے پھر یہ اداسی کیوں.
تو دوستو! پھر روح کو کبھی مرنے نہ دینا جب کبھی کوئ ان جانا سا خوف ستائے تو اس بے کلی کو محسوس کرتے ہوئے اس پر کان ضرور دھرنا.
پھر کیا سمجھے!!!

از رضیہ سبحان
19-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top