زندگی! گفتگو نمبر11۔۔۔18مئی2019

زندگی __ گفتگو نمبر :11
دوستو!
کیا آپ کو معلوم ہے کہ الَلَّہ کا تصور کیوں ہمارے لئے اس قدر خوبصورت اور حسین ہے __ اس لئے کہ وہ ظاہر ہوتے ہوئے بھی پوشیدہ ہے اس کے حسن کی جھلک ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں نظر آتی ہے کہ جدھر دیکھئے اسی کے رنگ اسی کے جلوے ہیں مگر وہ ہمیں براہِ راست نظر نہیں آتا. وہ چھپا ہوا ہے، وہ پر اسرار ہے وہ ایک ایساراز ہے جو ظاہر ہے مگر پھر بھی کسی پر نہیں کھلتا مطلب بیک وقت عیاں بھی ہے اور نہاں بھی، سُبحان الَلَّہ __
حسن کا بہترین وصف بھی یہی ہے جو ظاہر نہ ہو __ جو نظر نہ آئے جو آنکھ دیکھتی ہے وہ اصل نہیں بلکہ اس کی خاموش سطح ہو __ اسکی باریکی میں وہی آنکھ اتر سکتی ہے جس میں بینائ ہو __ جو دل کی آنکھ ہو، پھر آپ پر حُسن کے پرت در پرت کھلتے جائیں گے، آپ حیرت میں ڈوب جائیں گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر حسن کی ایک جھلک ہی تو دیکھی تھی __ تاب نہ لاسکے __ بے ہوش ہوگئے، تو حسن کا دیدار بھلا کب کہاں کس کے بس کی بات ہے.
بات کہاں سے کہاں چلی گئ میں کہنا چاہ رہی تھی کہ جب تک حسن پنہاں ہے وہ حسین ہے جو کُھل جائے تو پھر وہ اتنا دلکش نہیں رہتا، اسی لئے دنیا میں بعض چیزوں کا لطف لینے کے لئے اِن کے درِپردہ حسن سے لطف اندوز ہونا سیکھیں.
کہانیاں، تصاویر، لفظ، اشارے کنائے سب حسین اِس وقت تک ہیں جب تک چھپے ہوئے ہوں یعنی اگر آپ نے ان کا پوسٹ مارٹم کردیا تو انکی دَھج ہی بدل جائے گی اور ویسے بھی پوسٹ مارٹم زندہ، باقی رہ جانے والی ذات پر نہیں ہوسکتا.
سوچیں آپ کوئی فلم دیکھ رہے ہیں، لطف اندوز ہورہے ہیں ذہن میں تجسس برپا ہے ایسے میں کوئی آپ کو اس فلم کا انجام بتادے تو وہ لطف فوراً ہی زائل ہو جائے گا، اسی طرح کہانیاں جن کا انجام قاری پر چھوڑ دیں وہ امر ہوجاتی ہیں، الفاظ جن کے معنی براہِ راست نہ ملیں وہ دلوں کو چھو لیتے ہیں، چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہم اِس لئے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ وہاں ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کو نظر انداز کرکے اس کیفیت کو اپنے اندر جذب کررہے ہوتے ہیں.
آج کے اس تلاطم خیز دور میں محظوظ ہونے کے مواقع کم یاب ہیں بالخصوص فنونِ لطیفہ سے متعلق تحریر، تصویر سامنے آنے پر اپنے مزاج کے مطابق پسند و ناپسندیدگی کی رائے دی جائے بجائے اس کے کہ کیوں، کیسے، کب، کہاں جیسے سوالات اٹھائے جائیں، دوسرے لفظوں میں پوسٹ مارٹم کیا جائے __ اس مزاج کی بدولت ہم تخلیق کار کے فن سے اپنے آپ کو ہر گز لبھا نہ پائیں گے، اِن سے بچ کر رہنے میں ہی عافیت ہے، اگر ہم اپنے آپ کو صرف عِلم کے عَلمبردار سمجھ کر منطقی رویہ اختیار کریں گے تو کئ سچی، معصوم اور سادہ خوشیوں سے محروم ہوجائیں گے.
جمال کو صرف دیکھنا ہی نہیں بلکہ اس کو دل سے سراہنا بھی ایک کمال ہے.
تو کیا سمجھے!!!

از رضیہ سبحان
18-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top