زندگی !گفتگو نمبر 4۔۔۔11مئی 2019

زندگی ___ گفتگو نمبر:4
دوستو جانے کیوں بچپن ہی سے آسمان پر چمکتے تاروں سے دوستی ہوگئ. ٹمٹماتے تارے بہت پیارے لگنے لگے ایسا لگا کہ یہ میرے اپنے ہیں. اِن سے دل کی تمام باتیں کی جاسکتی ہیں. یہ مجھ سے بہت دور ہوتے ہوئے بھی میرے بہت قریب محسوس ہوئے.
بس میں نے جانے انجانے میں اِن سے باتیں کرنا شروع کرلیں. اپنی ہر بات انہیں بتانے لگی. مجھے لگا کہ یہ میرے دوست ہیں. مجھے جس قدر پہنچانتے اور سمجھتے ہیں کوئ اور نہیں سمجھ سکتا. یہ کبھی مجھ سے سوال نہیں کرتے بس میری سنتے رہتے ہیں. مجھے اِن پر اسی قدر بھروسہ تھا جس طرح اِن کو مجھ پر. ان کا حسن مجھے حسین خواب دِکھلاتا جب وہ اتنے فاصلے پر رہتے ہوئے میرے اپنے ہیں تو جو خواب میں دیکھتی ہوں وہ میری پہنچ سے دور کیسے ہو سکتے ہیں بھلا. بس پھر کیا تھا میں سوچنے لگی بلا جھجک، بلا خوف.
آپ سوچ رہے ہیں کہ میں نے ستاروں کو اپنا دوست کیوں چنا، کسی اور کو کیوں نہیں جو میرے اپنے ہیں ___ تو دوستو یہاں آکر احساس ہوا کہ ستارے تو اپنے آپ سے رابطہ کا ایک بہانہ ہیں. دراصل میں نے اپنے آپ سے دل کی باتیں کرنا اور کسی کو نہ سنانے کا گُر پالیا تھا. مجھے اپنے تخیل کو پانے کا ہنر آگیا تھا وہ بھی کسی اور پر ظاہر کئے بغیر. مجھے اپنے آپ کو سمجھنے کا فن آگیا تھا. اپنے آپ کی حوصلہ افزائی کرنا اپنے آپ سے ایماندار رہنا اور سچ بولنے کا فن.
اب میں آئینہ نہیں دیکھتی بلکہ اپنے اندر جھانک کر اپنا سر تا پا جائزہ لیتی ہوں. اپنا محاسبہ خود کرتی ہوں. اپنے آپ پر تنقید بھی اور اپنی تعریف بھی خود ہی کرلیتی ہوں.
اب ستارے مجھ پر حیران ہوتے ہیں جس طرح میں اِن پر ہوتی رہی. میں نے ستاروں سے زندگی کا حسن پایا اور اگر میں ستاروں کا حسن نہ پا تی تو میں پورے چاند کے حسن سے کیسے محظوظ ہوتی بھلا.
کیا سمجھے!!!
از رضیہ سبحان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top