زندگی! گفتگو نمبر :18 ۔۔۔17اگست 2019

ایک سوچ

ٹپ ٹپ بوندیں برس رہی ہیں
اور میرے دل کی سرزمین بھی اشکوں کی
ٹپ ٹپ سے زرخیز ہو رہی ہے
جس طرح بارش مٹی کو نم کر رہی ہے
اور اس میں سے ہلکی ہلکی سوندی خوشبو
امڈ کر فضا میں پھیل رہی ہے
اسی طرح میرے آنسو میرے چہرے کو دھو کر
اجلا کر رہے ہیں۔۔اور میری روح سرشار ہو رہی ہے
انسان اور فطرت جڑے ہوئے ہیں
موسم کے رنگ انسانی جذبوں میں گھل مل جاتے ہیں
اور انکے اثرات ہمارے رویوں میں نظر آتے ہیں
ہمارے عمل اور رد۔عمل کسی حد تک اک دوسرے سے
منسلک ہیں
بیشک ہم اپنے اندر جھانک کر ہی زندگی کا سراغ پاتے ہیں
مگر
باہر کی فضا سے بے نیاز نہیں رہ سکتے
کیونکہ ہمارے اندر ہمارا وجود ہے
تو باہر ہمارے چاروں طرف خالق۔حقیقی کی قدرت
اس سے بے نیاز ہو کر اسے محسوس کئے بغیر
ہم اپنی آپ کیسے پا سکتے ہیں
اس لئے ضروری ہے کہ قدرت کو سمجھا جائے
فطرت سے پیار کیا جائے
مالک ۔کل کی ہر تخلیق سے محبت کی جائے
اور پھر اپنے اندر جھانکاجائے
تو
اپنا سراغ پانا مشکل نہیں۔۔۔۔
آپ کا کیا خیال ہے ؟؟؟

رضیہ سبحان
17-8-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top