زندگی! گفتگو نمبر17۔۔۔10جولائی 2019

زندگی۔۔۔ گفتگو نمبر 17
آئینہ
آئینہ روز ہی دیکھتی ہوں
کیا کروں
صبح بستر سے اٹھتی ہوں تو سنگھار میز کا بڑا سا
شیشہ سامنے آجاتا ہے
ایک اچٹتی نگاہ سے اپنے آپ کو دیکھ لیتی ہوں
اور تیار ہو لیتی ہوں
مگر کل اچانک آئینہ میں خود پر نظر پڑی
تو میں ٹھٹک سی گئ
اپنے آپ کو پہنچاننے میں کچھ دقت سی محسوس ہوئ
میں آئینہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئ
کہ آج تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
خود کو غور سے دیکھو نگی
اور اپنے آپ سے نظریں نہیں چرائونگی
میں نے اپنا جائزہ سر کے بالوں سے لینا شروع کیا
بال پہلے سے بہت ہلکے ہوچکے تھے
ڈائ کر کر کے
رنگ بھی اور بالوں کی چمک بھی ماند پڑ چکی تھی
کہیں کہیں چاندی چھلک رہی تھی
پھر میری نظریں اپنی آنکھوں پر پڑیں
جو میرے چہرے کا بہت خاص حصہ ہوا کرتی تھیں
بہت سے لوگ میری آنکھوں کو بولتی آنکھیں کہتے تھے
میں نے غور سے ان میں جھانکا
کیا یہ اب بھی بولتی ہیں
نہیں!
پہلے میری آنکھیں بڑی روشن تھیں
ان میں گلابی ڈورے تھے
اور پُتلیاں بالکل سیاہ تھیں
بہت شوخ،چنچل، چھیڑتی ہوئ آنکھیں
آج ان پر پپوٹے جھک گئے تھے
اور یہ چھوٹی ہوگئیں
ان میں اب وہ چمک اور روشنی نہیں
پتلیاں بھی ہلکی سیاہ ہوگئی تھیں
مگر آج بھی یہ مجھے کچھ کہتی ہوئ محسوس ہوئیں
مجھے آج بھی یہ معصوم سی بے ضرر سی لگیں
آنکھوں سے ہٹ کر ناک پر آئ
یہ تو پہلے ستواں ہوتی تھی
پھر جب اپنے ہونٹوں پر نظر پڑی
تو یاد آیا
کبھی یہ بہت گلابی ہوا کرتے تھے
اب تو پھیکے سے ہونٹ لگ رہے تھے
چپ رہ رہ کر سکڑ گئے تھے
ہاں جب مسکرائ تو کچھ بہتر ہوئے
مگر اب اتنا کہاں مسکرایا جاتا ہے
پھر اپنے ہاتھ دیکھے
بانہہ میں چوڑیاں نہیں تھیں
انگلیوں میں انگوٹھیاں نہیں تھیں
کانوں میں بنُدے نہیں تھے
کہاں گئے میرے سارے زیور
جنہیں میں روز بدل بدل کر
میچنگ بنا بنا کر پہنا کرتی تھی
آج سب کچھ خالی خالی عجیب سا لگ رہا ہے
شاید میں نے اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا
مگر میں ہمیشہ سے ہی ایسی تھی
مگر اس وقت تو میں سہاگن کی طرح
سجی سجائ لگتی تھی
آج بھی سہاگن ہوں
مگر برہن کی طرح
آئینہ میں پورا سراپا دیکھا
جو مجسم ڈھل چکا تھا
سب کچھ ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت کی طرح
کھنڈر سا محسوس ہوا
مگر ایک چیز ابھی بھی نہیں بدلی
وہ تھی میرے دل کی دھڑکن
وہ اس طرح دھڑک رہا تھا
جیسے پہلے دھڑکتا تھا
جب میں نے اچھی طرح سے اپنا جائزہ لے لیا
تو آئینہ میں مسکرا کر اپنے آپ کو دیکھا
اور خود کلامی کرنے لگی
رضیہ تم نے اپنا وقت گزار لیا
ماضی گزر چکا
وہ اب واپس نہ آئے گا
اِس کو یاد نہ کرو
وہ وقت کا زیاں ہوگا
وقت گزررہا ہے
اورحال
یہ بھی ماضی میں ڈھل رہا ہے
حال سے کیا دل لگانا
حال میں اتنا ہی شامل رہو
جتنا ضروری ہے
اور آنے والے کل کی تو فکر ہی نہ کرو
کہ آنے والا کل
آج میں بدل کر
ماضی کا کل بننے والا ہے
وقت کی قید سے نکل جاو
اِس میں اپنے آپ کو مت جھونکو
وقت کسی کا نہیں
یہ صرف گزرتا ہے
سَو اس کو تم بھی اچھے سے گزار لو
بغیر شکوہ کئے
بغیر خوش فہمی کے
بغیر پچھتائے
اور تم نے اپنے پاس جو کچھ تھا
دیا بھی اور لیا بھی
مگر اب تم اس موڑ پر ہو
جہاں سے زندگی کا نشیب شروع ہوتا ہے
ڈھلان تمھیں تیزی سے نیچے بھی لے جاسکتا ہے
یا پھر رُک رُک کر بھی تم گر سکتی ہو
جب تک نشیب کا سفر ہے
آئینہ میں اپنی صورت سے زیادہ
فکر میں اپنی پرواز کرو
سوچو کہ اب اپنے آپ کو ہلکا کرنا ہے
سب کچھ جانے دینا ہے
اور جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ بانٹ دینا ہے
کیونکہ اب تمھیں کچھ اپنے ساتھ نہیں رکھنا
بانٹنے کےلئے تمھارے پاس
اتنی دولت نہیں ہے
تو کیا ہوا
محبت تو ہے
سب کو محبتیں دیدو
چاہتیں دیدو
اور اپنی خدمات دیدو
ہر منصب
سٹھانی یا گھر کی بڑی بن کر نہ بیٹھ جائو
مسند نہ سنبھالو
اور جب تک ہاتھ پائوں سلامت ہیں
سب کی خدمت کرو
جتنا کرسکتی ہو
چیزوں سے نظر ہٹاکر
حُسنِ فطرت میں کھوجائو
قدرت سے پیار کرو
تمھیں اس مٹی کو روز چومنا ہے
کیونکہ یہ مٹی تمھیں اپنے سینہ میں چھپانے والی ہے
اس پر ہلکے ہلکے قدموں سے چلو
اس کا احترام کرو
اور آئینہ میری ان باتوں کی تائید کرنے لگا
اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے چکنا چور ہوگیا
کیونکہ اب مجھے اس کی ضرورت نہ رہی تھی
اب میں خود کو روزانہ اپنی فکر کے آئینہ میں دیکھا کرونگی
اور حسین سے حسین ہوتی چلی جائونگی
تاکہ کل کھلنے والے چمن کے سارے پھول
مجھے دیکھ کر خوشی سے جھوم جائیں
ہوائیں خوشگوار ہوجائیں
بادل مست مست ہوں
اور میں اپنا سب کچھ
سب کو سونپ کر
ان بوندوں کے ساتھ ٹِپ ٹِپ اس کے آنگن کی مٹی میں جذب ہوتی چلی جاوں۔۔۔۔

رضیہ سبحان
10-7-2019

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top