زندگی!گفتگو نمبر7۔۔۔14مئی 2019

زندگی __ گفتگو نمبر :7
دوستو آج بچوں پر بات کرتے ہیں
“تمھارے بچے تمھارے ہیں
یہ بیٹے ہیں
بیٹیاں ہیں
حُسنِ فطرت کے
جو ان میں اپنا وجود منواتی ہے
یہ تم سے ہوکر ضرور آتے ہیں
مگر یہ تمھارے کسی طور نہیں
گو کہ یہ تم سے جڑے رہتے ہیں
مگر یہ پھر بھی تمھاری ملکیت نہیں
کیونکہ تم انہیں اپنی محبت تو دے سکتے ہو
مگر اپنی سوچ نہیں
ان کی اپنی سوچ ہے
تم اِن کے جسموں کو اپنی قید میں رکھ سکتے ہو
مگر اِن کی روحیں آزاد ہیں
اِن کی روحیں آنے والے کل کی امانت ہیں
جہاں تمھاری پہنچ نہیں
اور نہ ہی تم اِن کا تصور کرسکتے ہو
تم اِن کی طرح بننے کی کوشش ضرور کرسکتے ہو
مگر تم انہیں اپنے جیسا نہیں بنا سکتے
کیونکہ زندگی پیچھے اور ماضی کی طرف سفر نہیں کرتی
زندگی آنے والا کل ہے
تم صرف کمان ہو جس میں تمھاری اولاد کو اِس کمان کا تیر بنایا ہے
رَب نے اس تیر کا ہَدف مقرر کیا ہے
وہ تمھیں اپنی طاقت سے مجبور کرتا ہے
کہ تم یہ تیر چلائو
تاکہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ سکے
تو اپنے ہاتھ اِس کے حوالے کردو
جِس نے تمھیں تیر و کمان دیئے
وہ مالک ہے
جب وہ اِس تیر کو تمھاری کمان سے نکال کر اپنی منزل کی طرف سفر کرتے دیکھتا ہے تو اتنا ہی خوش ہوتا ہے جتنا اِس کمان کی مضبوطی کو دیکھ کر ہوتا ہے __ کیونکہ جتنا کمان مضبوط ہوگا تیر اتنا ہی دور جائے گا ”
یہ میں نے نہیں خلیل جبران نے کہا ہے __ تو پھر
کیا سمجھے!!!

از رضیہ سبحان
14-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top