زندگی!گفتگونمبر 8۔۔۔15مئی 19

زندگی __ گفتگو نمبر :8
دوستو عبادات کے خاص دن ہیں رحمتیں برس رہی ہیں اور سب اپنے اپنے طور پر دعائیں مانگنے میں مصروف ہیں، سوچا میں بھی آپ کے ساتھ دعا میں شامل ہوجائوں تاکہ آمین اجتماعی ہو.
“اے اللہ! مجھے پانی جیسا بنادے”.
ارے آپ تو چونک گئے، میں جب بھی یہ دعا مانگتی میرا ذہن اسی طرح چونک جاتا اور متعجب ہوکر پوچھتا کہ پانی کی تمھاری زندگی میں کمی ہے کیا، تمھارے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے.
تو آج میں اپنے ذہن کو یہ جواب دینا چاہتی ہوں کہ تم اپنے آپ کو بہت عقل مند کہتے ہو، فہم و ادراک کے مالک ہو پھر بھی میری دعا کا مفہوم نہیں سمجھ سکے.
پاگل! تم نے صرف پانی کو دیکھا ہے میں نے پانی کو محسوس کیا ہے. تم کیا جانو اس کی خصوصیات __ بقاء، فناء،نفی، لچک، مہک، شکر، بے نیازی، خدمت، وسعت، محبت، روانی کیا کچھ نہیں ہے پانی میں، یہ تو ایک سحر ہے طلسم ہے اس کی اپنی کوئی صورت نہیں جس میں چاہو ڈھال لو، جو چاہے شکل بنالو، کہیں مادہ ہے تو کہیں گیس صورت ہے، چاہو تو ابالو، چاہو تو جمالو، چاہو تو بھاپ بنالو.
یہ چھلنی میں نہیں رکتا، چٹانوں سے نہیں جھکتا، زمیں کا احاطہ کئے ہے مگر دنیا پر قابض نہیں، کائنات کے رنگ اور تازگی اسی کے دم سے ہے. نہ یہ احسان جتاتا ہے اور نہ ہی اپنی اہمیت بتاتا ہے، کیچڑ میں بھی اجلا کنول کھلاتا ہے، کالے بادلوں میں سماکر اجلا مینہ برساتا ہے، نہ صرف صحرا کی پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کے ساتھ روح کی بھی پیاس بجھاتا ہے.
انسان کی بقاء ہے اور ترجمان ہے، کبھی آنکھوں سے بہتا ہے کبھی دل میں رِستا ہے کبھی اپنوں کے لیے روتا ہے، کبھی انسانیت کے لیے تڑپتا ہے، اس کا اپنا کوئ رنگ نہیں، جو رنگ شامل کرو اسی رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے.
نرم، سبک، شفاف، رواں، مدھم اور پاکیزہ ہے (آدمی کو مرنے کے لیے سمندر نہیں ایک چلو پانی کافی ہے) کیا تعریف کروں پانی کی اور کہاں تک.
اب سمجھے میں یہ دعا کس لئے مانگتی ہوں میرا یہ جواب سن کر میرا ذہن شرم سے پانی پانی ہوگیا.
پھر کیا سمجھے!!!

ازرضیہ سبحان
15-5-19

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top